نئی دہلی،28؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) ماہر صحت کا خیال ہے کہ وبا کے دور میں داخل ہو رہی دنیا سے کورونا 2021 تک جانے والا نہیں ہے اور لاک ڈاؤن صرف اس کا پھیلاؤ روکتا ہے جس میں آہستہ آہستہ نرمی کرکے ٹسٹنگ بڑھانے اور اس کی دوا بننے تک لوگوں کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے- دنیا کے ماہر صحت اور ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر آشیش جھا اور سویڈن میں عوامی صحت کے ماہر پروفیسر جوہان گسیے سے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے کورونا بحران سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی-
راہل گاندھی نے اس سے قبل کورونا سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان اور ہندوستان کے اس سمت میں اٹھائے گئے اقدامات کے تناظر میں ماہر اقتصادیات رگھو رام راجن اور نوبل انعام یافتہ ابھیجیت بنرجی سے بات چیت کی تھی-راہل گاندھی کے یہ پوچھنے پر کہ لاک ڈاؤن کا کورونا پر کیا اثر پڑے گا، پروفیسر جھا نے کہا کہ اس سے صرف اس وائرس کے پھیلنے کی رفتار کم کی جا سکتی ہے- لاک ڈاؤن وائرس کے پھیلاؤ روکنے اور اس سے لڑنے کی صلاحیت کو بڑھانے کا وقت دیتا ہے- وائرس کو روکنا ہے تو اس سے متاثر ہونے والوں کو سماج سے الگ کرنا ہوگا اور ایسا جانچ سے ہی ممکن ہوگا- لاک ڈاؤن سے معیشت کے محاذ پر بہت بڑی چوٹ پہنچتی ہے لہٰذا اس وقت اس کا استعمال صلاحیت بڑھانے کیلئے نہیں کیا گیا تو یہ بات کافی نقصان دہ ثابت ہوگی-
لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہاجر مزدوروں کے بحران کے بارے میں پوچھے گئے راہل گاندھی کے سوال پر پروفیسر جھا نے کہا کہ کوروناوائرس ایک دو مہینے میں جانے والا نہیں ہے-یہ2021 تک رہنے والا ہے۔